Tuesday, 7 March 2017

NARAN KAGHAN VALLEY

وادی کاغان
وادی کاغان صوبہ خیبر پختونخواہ کے ہزارہ ڈویژن میں شامل ہے۔ یہ راولپنڈی سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔  ٹیکسلا،  حسن ابدال ، خانپور، ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ سے ہوتے ہوئے چار  سے پانچ گھنٹے میں بالاکوٹ پہنچتے ہیں۔ بالاکوٹ وادی کا سب سے بڑا اور جدید شہر ہے- بالاکوٹ سرسبز پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے اور اس کے درمیان دریائے کنہار گزرتا ہے۔ اوپر پہاڑوں پر دور دور تک آبادی ہے۔ رات کے وقت جب پہاڑوں پر موجود گھروں میں بلب روشن ہوتے ہیں تو ان میں 
اور ستاروں میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔ 


شوگران
بالا کوٹ سے آگے بلندی کی جانب 24 کلومیٹر سفر کے بعد کیوائی آتا ہے۔ کیوائی سے ایک راسته دائیں طرف شوگران کی طرف نکلتا ہے۔ گھنے جنگلات کے درمیان سے بل کھاتی ہوئی خوبصورت سڑک گزرتی ہے، یہ ایک خوبصورت اور سرسبز وادی ہے۔ یہاں قیام و طعام کی سہولت موجود ہے۔ یہاں کا خوبصورت ترین مقام سری پائے ہے، جو یہاں سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر مزید 600 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہی راستہ مکڑا پہاڑ کے دامن کی طرف جاتا ہے۔ مکڑا پہاڑ کی دوسری طرف وادی کشمیر واقع ہے۔ ایڈوینچر پسند لوگ یہ ٹریک 2 دن میں پیدل طے کرتے ہیں۔ یہاں ایک صاف و شفاف چشمہ بہتا ہے اور ایک چھوٹی سی جھیل بھی ہے۔


کاغان
کیوائی سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر کاغان واقع ہے یوں تو بالاکوٹ سے بابو سرٹاپ تک ساری وادی ہی وادیِ کاغان ہے لیکن یہ اصل کاغان گاؤں ہے۔ خوبصورت مناظر مقامی دستکاریوں اور ڈرائی فروٹ کی دوکانیں اور قیام و طعام کیلئے ہوٹل موجود ہیں۔


ناران
کاغان سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر وادی کا سب سے خوبصورت مقام ناران ہے۔ ناران میں داخل ہوتے ہی خوبصورت گلیشئرز سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔ پوری وادی حسین مناظر سے لبریز ہے۔ ڈیڑھ کلومیٹر طویل سڑک کے دونوں اطراف ہر معیار کے ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں۔ یہ پیالہ نما وادی سّیاحوں کی اصل منزل ہے۔ یہاں سے آگے جهیل سیف الملوک تک صرف جیپ ہی جاسکتی ہے۔ 
 ناران میں ٹراؤٹ فشنگ پوائنٹ بھی ہے، مگر اس کے لئے لائسنس ضرور لیں۔

جھیل سیف الملوک
ناران سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر سطح سمندر 10500 فٹ بلند خوبصورت جھیل سیف الملوک ہے۔ سارا راستہ جیپ میں طے ہوتا ہے بعض اوقات ایک گلیشئر سڑک کا راستہ روک لیتا ہے اس صورت میں باقی سفر پیدل یا خچروں کے ذریعے طے ہوتا ہے۔یہاں کچھ ٹک شاپ اور ایک ریستورنٹ بھی موجود ہے۔ جھیل کے اطراف میں سرسبز پہاڑ اور بے شمار چھوٹے چھوٹے گلیشئر ہیں اور سامنے 17360 فٹ بلند برف پوش ملکہ پربت کی چوٹی ہے جھیل میں اس چوٹی کا عکس بهت خوبصورت لگتا ہے۔ سیاح اس منظر سے دم بخود رہ جاتے ہیں۔ شہزادہ سیف الملوک اور پری بدریاواا جمال کے دیومالائی رومانوی داستان کی بدولت بھی اس جھیل کو بڑی شہرت حاصل ہے مقامی لوگ آج بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ چودھویں کی رات کو اس جھیل میں پریاں نہانے 
آتی ہیں۔

لالہ زار:
ناران سے 16 کلومیٹر آگے بٹکنڈی کا علاقہ آتا ہے یہاں سے ایک دشوار راستہ عمودی چڑھائی کے بعد پائن کے درختوں میں گھری سرخ پھولوں سے بھری وادی لالہ زار کی طرف نکلتا ہے۔ یہاں یخ بستہ ہوائیں سیاح کے کانوں میں سرگوشیاں کرتی ہیں اور اس پر خوشبو کے خزانے نچھاور کرتی ہیں۔ یہاں سّیاح اپنے آپ کو بھول کر اطراف کے خوبصورت نظاروں میں کھو جاتا ہے، جہاں بلند سرسبز پہاڑوں پر بادل اٹھکیلیاں کرتے ہیں۔ پھر جب اس کی نظر زمین پر پڑتی ہے تو وہ حیرت کے سمندروں میں کھو جاتا ہے کیونکہ گہرے سبز قالین نما گھاس کی زمین رنگ پرنگی پھولوں سے بھری ہوتی ہے ۔ لالہ زار کیمپنگ کے متوالوں کے لئے آئیڈیل مقام ہے۔
جھیل لولوسر 
 بٹکنڈی سے 34 کلومیٹر کے فاصلے پر جهیل لولوسر واقع  ہے۔ 3 کلومیٹر طویل لولوسر جھیل دریائے کنہار کا ماخذ ہے 



 دودی پت سر
عزم و ہمت کا مظاہرہ کرنے والوں کیلئے اﷲ تعالیٰ نے کچھ وادیاں اور جهیلین شاہراہ عام سے ہٹ کر رکھی ہیں۔ ۔ دودی پت جھیل تک جانے کے لئے 5 تا 6 گھنٹے پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ 
 بابو سر ٹاپ
ناران سے ہوتے ہوئی یہ سڑک بابو سر ٹاپ سے ہوتی ہوئی شاہراہ قراقرم پر چلاس سے جاملتی ہے۔ بابوسرٹاپ سے نانگا پربت اور کئی بلند چوٹیوں کاحسین نظارہ ممکن ہے۔ راسته بهت صاف اور بهترین اور بهت خوبصورت مناظر پر مشتمل ہے۔ اس سال گرمیوں کی چھٹیاں میں وادی کاغان کی 
سیاّحت کا پروگرام بنائیں یہ سفر آپ کی یادوں میں ہمیشہ ترو تازہ رہے گا۔
FOR VISIT NARAN KAGHAN CONTECT: 
Sour Travel Ways Face book Page; visit Pakistan
https://www.facebook.com/visit.beautiful.pk/?ref=aymt_homepage_panel 
RAJA SHABBIR 03335531390 & 03120057758 & 03215203895
وادی کیلاش کی سیر
کلک کریں

No comments:

Post a Comment